-Advertisement-

پاکستان سمیت 13 اسلامی ممالک کی ایران کے حملوں کی مذمت، کشیدگی میں کمی پر زور

تازہ ترین

ایران: جنوری کے احتجاج میں ملوث ہونے پر تین افراد کو پھانسی دے دی گئی

ایران میں حکام نے جنوری کے دوران مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے الزام میں تین...
-Advertisement-

ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اجلاس میں شریک 13 ممالک کے نمائندوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری ڈی ایسکلیشن اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ اہم اجلاس 29 رمضان 1447 کو ریاض میں ہوا جس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، پاکستان، قطر، سعودی عرب، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے ایران کے جارحانہ اقدامات کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے متفقہ اعلامیہ جاری کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری تنصیبات، آئل فیسیلیٹیز، ڈی سیلینیشن پلانٹس، ہوائی اڈوں اور سفارتی عمارتوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزراء نے زور دیا کہ ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے اور یہ عمل خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرہ ممالک کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی گئی۔ وزراء نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام جارحانہ کارروائیاں فوری بند کرے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اعلامیے کے مطابق ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کا انحصار ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کے احترام اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت پر ہوگا۔

شرکاء نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ مبینہ طور پر عرب ممالک میں سرگرم ملیشیاؤں کی مالی معاونت اور عسکری امداد بند کرے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت پر بھی زور دیا گیا اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کے خلاف خبردار کیا گیا۔

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزراء نے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور لبنانی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کی کوششوں کی تائید کی۔ اجلاس میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کی بھی مذمت کی گئی۔

آخر میں شریک ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں پیش رفت پر کڑی نظر رکھیں گے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی سطح پر مربوط ردعمل جاری رکھیں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -