واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کا بیورو برائے امور مشرق وسطیٰ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور خطے میں بدلتی ہوئی جیوسیاسی صورتحال کے باوجود شدید بحران کا شکار ہے۔ اس اہم شعبے کی ذمہ داری 18 ممالک پر مشتمل خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کو مربوط کرنا ہے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے وسائل میں کمی اور تجربہ کار سفارت کاروں کی عدم موجودگی نے اس کی فعالیت کو متاثر کیا ہے۔
انتظامیہ نے بیورو کے بجٹ میں 40 فیصد کٹوتی کی تجویز دی تھی، جس پر کانگریس نے بعد ازاں کسی حد تک کم کٹوتی کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ایران کے لیے مخصوص دفتر کو عراق کے دفتر کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اقدامات اور فیصلہ سازی کے عمل کو محدود کرنے سے عالمی ہنگامی صورتحال میں امریکہ کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
محکمہ خارجہ کے امور مشرق وسطیٰ کے شعبے سے 80 سے زائد اہلکاروں کو فارغ کیا گیا ہے، جن میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے سفارت کار بھی شامل ہیں۔ ان کی جگہ سیاسی بنیادوں پر تقرریاں کی گئی ہیں یا جونیئر افسران کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ سابقہ اور موجودہ حکام کا کہنا ہے کہ تجربہ کار عملے کی کمی کے باعث اہم مشورے اور تجزیے نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
ادھر محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس میں ان افراد کے بیانات شامل نہیں کیے گئے جو زمینی حقائق سے آگاہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ غلط مفروضوں پر مبنی ہے اور اس میں شامل اعداد و شمار اور تجزیے حقائق کے منافی ہیں۔
