امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ کی جانب سے پاکستان کے میزائل اور جوہری پروگرام کے حوالے سے دیے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر دفتر خارجہ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حقائق کو واضح کر دیا ہے۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے تلسی گیبارڈ نے پاکستان کو روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کی صف میں کھڑا کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ممالک ایسے جدید میزائل نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام بین البراعظمی رینج سے بہت کم ہے اور اس کا واحد مقصد خطے میں بھارت کے مقابلے میں قابل اعتماد کم سے کم ڈیٹرنس کے نظریے کو برقرار رکھنا ہے۔ ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن کا قیام ہے۔
پاکستان کا جوہری پروگرام انتہائی محفوظ ہے اور ملک کو اپنے دفاع کے لیے درکار تمام قانونی اور معقول اقدامات جاری رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ عالمی برادری بالخصوص امریکا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کے دفاعی اقدامات کا مقصد کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اپنے ہمسائیگی میں موجود خطرات سے نمٹنا ہے۔
یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں بھی اسی طرح کے بے بنیاد دعوے کیے گئے تھے جس کے بعد امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اب اسلام آباد کی ذمہ داری ہے کہ وہ واشنگٹن پر اپنے تحفظات کو پوری قوت سے واضح کرے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکا کو جنوبی ایشیا میں جانبداری کے تاثر سے گریز کرنا چاہیے۔ بھارت کے میزائلوں کی رینج 12 ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جس پر خاموشی اختیار کرنا امریکی دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاعی معاملات پر کسی تیسرے فریق کی بے جا تنقید کو خاطر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ اقدامات ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔
