-Advertisement-

ایران کشیدگی: نیٹو نے عراق سے اپنے تمام فوجی دستے واپس بلا لیے

تازہ ترین

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے جزیرہ خارک پر قبضے کا عندیہ، نیٹو کو بزدل قرار دے دیا

امریکی انتظامیہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خلیج فارس میں واقع جزیرہ خارک پر قبضے یا ناکہ...
-Advertisement-

برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اتحاد نے عراق میں اپنے مشاورتی مشن سے تمام فوجی اہلکاروں کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں ایران اور خطے کے دیگر حصوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ، امریکی فضائیہ کے جنرل ایلکسس گرنکویچ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے نیٹو اہلکاروں کی عراق سے محفوظ منتقلی میں تعاون کرنے پر جمہوریہ عراق اور تمام اتحادی ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔

نیٹو کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واپس بلائے گئے اہلکاروں کی تعداد کئی سو کے قریب ہے۔ بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تمام اہلکاروں کو یورپ منتقل کر دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں کے دوران پولینڈ، اسپین اور کروشیا سمیت کئی ممالک نے بھی ایران اور خلیجی خطے میں جاری تنازع کے پیش نظر اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ مشن کا کام اب اٹلی کے شہر نیپلز میں قائم فوجی ہیڈکوارٹرز سے جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ اس مشن کا کردار جنگی نوعیت کا نہیں ہے اور یہ بنیادی طور پر عراقی سیکیورٹی فورسز کو مشاورت فراہم کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔

جنرل ایلکسس گرنکویچ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ نیٹو مشن عراق کے ان تمام اہلکاروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے ان اہلکاروں کو پیشہ ورانہ مہارتوں کا حامل قرار دیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -