-Advertisement-

ایران میں جنگ کے سائے: نوروز اور عید کے تہواروں پر سوگواری کا عالم

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا فیصلہ مسترد

وزیراعظم شہباز شریف نے عید الفطر کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل...
-Advertisement-

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو اکیس دن مکمل ہو چکے ہیں، جس کے دوران نوروز اور عید الفطر کی آمد کے باوجود ایران میں فضا انتہائی سوگوار ہے۔ جاری کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث ایران بھر میں روایتی تقریبات ماند پڑ گئی ہیں اور عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اس دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ایک اہم کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی فورسز نے ایک امریکی ایف پینتیس طیارے کو نشانہ بنا کر اسے نقصان پہنچایا، جس کے بعد طیارے کو متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ ایرانی میڈیا اسے اپنی دفاعی صلاحیتوں کے مظاہرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل میں سکیورٹی کی ایک سنگین خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم پر تعینات ایک اسرائیلی ریزرو فوجی کو ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم طویل عرصے سے ایرانی ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا اور رقم کے عوض حساس عسکری معلومات فراہم کر رہا تھا۔

خطے میں عسکری صورتحال مزید تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس ٹریپولی اور یو ایس ایس باکسر کی آمد سے خطے میں امریکی میرین فورسز کی طاقت میں اضافہ ہو گا، جس سے خلیجی ممالک میں واشنگٹن کے آپشنز وسیع ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت سمندری راستوں پر کنٹرول یا تزویراتی جزائر پر قبضے کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔

سفارتی محاذ پر بھی اہم تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ مغربی اور اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز میں سمندری تحفظ کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگی اہداف میں واضح فرق موجود ہے، جہاں امریکہ کا زور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر ہے، وہیں اسرائیل ایران میں طویل مدتی تزویراتی تبدیلی لانے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے۔

زمینی حقائق کے مطابق ایران اپنی مزاحمتی حکمت عملی پر قائم ہے اور لبنان اور عراق سمیت مختلف محاذوں پر پراکسی گروپس کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ معاشی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین میں تعطل کے اثرات اب عالمی سطح پر محسوس کیے جانے لگے ہیں۔

اکیسویں دن کے اختتام پر یہ واضح ہے کہ جنگ کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے اور اسے کنٹرول کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ آنے والے دن، خاص طور پر نوروز کے ایام، اس جنگ کے مستقبل کا تعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -