-Advertisement-

ٹوئٹر خریداری کے دوران سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے پر جیوری نے ایلون مسک کو قصوروار قرار دے دیا

تازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے جوہری ذخائر قبضے میں لینے کی حکمت عملی پر غور

واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے میں لینے کے لیے مختلف...
-Advertisement-

ایلون مسک کو 2022 میں ٹوئٹر کی 44 ارب ڈالر میں خریداری سے قبل سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ سان فرانسسکو کی ایک جیوری نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسک نے اپنے ٹویٹس کے ذریعے ٹوئٹر کے حصص کی قیمتوں کو جان بوجھ کر متاثر کیا جس سے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچا۔

تین روز تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد نو رکنی جیوری نے یہ فیصلہ سنایا۔ جیوری نے کہا کہ مسک کے دو ٹویٹس، جن میں ایک یہ بھی شامل تھا کہ ٹوئٹر کے ساتھ سودا عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے، سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کا سبب بنے۔ تاہم عدالت نے انہیں فراڈ کے الزامات سے بری قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کے لیے کسی سازش کا سہارا نہیں لیا۔

مقدمے کی سماعت دو مارچ سے جاری تھی جو کہ ایک کلاس ایکشن مقدمہ تھا۔ جیوری نے شیئر ہولڈرز کو فی حصص تین سے آٹھ ڈالر تک ہرجانہ ادا کرنے کی سفارش کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں ایلون مسک کو اربوں ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی رقم کا تعین ابھی باقی ہے۔

مقدمے کے دوران ایلون مسک نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ ٹوئٹر پر بوٹس اور جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کمپنی کی جانب سے بتائی گئی پانچ فیصد کی شرح سے کہیں زیادہ تھی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے خریداری کے عمل سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے قبل ٹوئٹر نے ڈیل کو یقینی بنانے کے لیے ڈیلاویئر کی عدالت سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد مسک نے اپنے پرانے معاہدے کے تحت خریداری مکمل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس عدالتی فیصلے پر ردعمل جاننے کے لیے میڈیا نے ایکس انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ایلون مسک کی موجودہ دولت کا تخمینہ 814 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس کا بڑا حصہ ٹیسلا کے حصص پر مشتمل ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -