-Advertisement-

ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے جوہری ذخائر قبضے میں لینے کی حکمت عملی پر غور

تازہ ترین

پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے، دہشت گردی کا تعلق پڑوسی ملک سے ہے: طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور...
-Advertisement-

واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے میں لینے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں تہران کے خلاف جاری فوجی مہم ایک غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے بعد امریکی حکام اب ایران کے ایٹمی اثاثوں کو ہدف بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

اس ممکنہ آپریشن کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کی شمولیت پر غور کیا جا رہا ہے، جو انتہائی حساس نوعیت کے انسدادِ پھیلاؤ مشنز کے لیے مختص ایک ایلیٹ یونٹ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسی تیاریوں کی ذمہ داری پینٹاگون پر عائد ہوتی ہے، تاہم پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایران کی دہشت گرد حکومت کے خلاف مشرق وسطیٰ میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو سمیٹنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل تنازع کے ابتدائی مرحلے میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کی روایتی عسکری صلاحیتوں، میزائل سسٹم اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

جنگی کارروائیوں کے باوجود ایران نے جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس کے نتیجے میں کویت میں ڈرون حملے سے چھ امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور عراق میں بھی امریکی اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر موجود ہیں، جو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب ہے۔ ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ یورینیم کے ان ذخائر کو قبضے میں لینا ایک انتہائی پیچیدہ اور پرخطر آپریشن ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جوہری مواد کو قبضے میں لینا صدر ٹرمپ کے پیش نظر موجود آپشنز میں شامل ہے۔ ایران مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم عالمی برادری اور امریکہ کی جانب سے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -