-Advertisement-

اسرائیل کے تہران اور بیروت پر حملے، امریکا کی جانب سے خطے میں میرینز کی تعیناتی

تازہ ترین

ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر امریکی و اسرائیلی حملہ، تابکاری کے اخراج کی تردید

تہران (ویب ڈیسک) ایران کے اٹامک انرجی آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز ایک مشترکہ فضائی...
-Advertisement-

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران اور حزب اللہ کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے جس کے نتیجے میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ڈھائی ہزار میرینز کو مشرق وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے تاحال زمینی فوج اتارنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو بزدل قرار دیا ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مدد کرنے سے گریزاں ہیں۔ دوسری جانب جرمنی اور فرانس کا موقف ہے کہ اس راستے کو محفوظ بنانے سے قبل جنگ بندی ضروری ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بیروت کے جنوبی مضافات اور تہران سمیت ایران کے مختلف حصوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایران نے جاپان سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام میں دشمن کے خلاف مزاحمت کا عزم دہرایا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس حکام نے خامنہ ای کی جانب سے ویڈیو پیغام کے بجائے تحریری بیان جاری کرنے پر ان کی صحت اور صورتحال کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے تیل کی سپلائی بڑھانے اور قیمتوں میں کمی کے لیے ایران پر عائد پابندیوں میں تیس دن کے لیے نرمی کا اعلان کیا ہے تاکہ سمندر میں پھنسے چودہ کروڑ بیرل ایرانی تیل کو فروخت کیا جا سکے۔ دریں اثنا، یونائیٹڈ ایئرلائنز نے ایندھن کی بلند قیمتوں کے پیش نظر اپنی پروازوں میں پانچ فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ جنگ میں اپنے اہداف کے حصول کے قریب ہے جن میں ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا شامل ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق دو تہائی امریکی عوام کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایک بڑی زمینی جنگ کا آغاز کر سکتے ہیں، جبکہ صرف سات فیصد امریکی اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -