-Advertisement-

ایران کا اسرائیلی جوہری تنصیبات کے حامل شہر دیمونا پر میزائل حملہ

تازہ ترین

کیوبا میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ملک گیر بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم

کیوبا میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار قومی سطح پر بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم...
-Advertisement-

ایران کی جانب سے داغا گیا میزائل اسرائیل کے شہر دیمونا میں واقع جوہری تنصیب کے قریب جا گرا۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ نطنز میں واقع ان کی جوہری تنصیب پر کیے گئے حملے کا براہ راست ردعمل ہے۔ دیمونا میں قائم مرکز کو مشرق وسطیٰ کا واحد جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر کبھی اپنے جوہری ہتھیاروں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ دیمونا میں ایک عمارت پر براہ راست میزائل لگا ہے۔ طبی امداد فراہم کرنے والے ادارے میگن ڈیوڈ ایڈم کے مطابق حملے کے نتیجے میں 33 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک دس سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پیرا میڈک کارمل کوہن نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں شدید افراتفری پھیلی اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ میزائلوں کی نشاندہی کے بعد انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے اس کارروائی کو نطنز پر ہونے والے حملے کا جواب قرار دیا ہے۔ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے اس سے قبل امریکا اور اسرائیل پر نطنز کے افزودگی مرکز کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا، تاہم حکام کے مطابق کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایک بار پھر فریقین سے فوجی تحمل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جوہری حادثے کے کسی بھی خطرے سے بچا جا سکے۔ نطنز کی تنصیب زیر زمین سینٹری فیوجز پر مشتمل ہے جہاں یورینیم کی افزودگی کا کام کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے نطنز پر حملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے تہران کی ایک یونیورسٹی میں قائم تنصیب پر حملے کا دعویٰ کیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہاں بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے پرزہ جات تیار کیے جاتے تھے۔

تین ہفتوں سے جاری شدید امریکی و اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی صلاحیت متاثر ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی فضائی حملوں کا سامنا کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ایران نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب متنازع جزائر پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل کی پانچویں بڑی تجارت ہوتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -