-Advertisement-

اسرائیل کے مرکزی جوہری مرکز کے قریب ایرانی حملے، 90 افراد زخمی

تازہ ترین

گلوبل ٹیررازم انڈیکس: پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں پاکستان پہلی بار دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے۔...
-Advertisement-

ایرانی حملوں نے اسرائیل کے اہم جوہری تحقیقی مرکز کے قریب واقع دو بستیوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے جنوبی حصے میں کم از کم 90 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تین ہفتے قبل شروع ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیل کے جوہری تحقیقی مرکز کو ہدف بنایا گیا ہے۔

یہ حملے ایران کی نتانز جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا کہ وہ ان ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہی جو صحرائے نیگیو کے قریب واقع شہروں دیمونا اور اراد میں گرے۔

اسرائیلی ہنگامی امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق اراد میں ہونے والے حملے میں 59 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے۔ اس سے قبل دیمونا میں ہونے والے حملے میں 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہماری بقا کی جنگ کا ایک مشکل مرحلہ ہے اور ہم اپنے دشمنوں کو تمام محاذوں پر نشانہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوش نے ایرانی حملوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام تہران کی بے چینی اور انسانی جانوں سے لاتعلقی کو ظاہر کرتا ہے۔

امدادی اداروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل گرنے سے ایک بڑا گڑھا بن گیا اور قریبی رہائشی عمارتیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اراد میں دس عمارتوں کو نقصان پہنچا جن میں سے تین کے گرنے کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ انہیں اسرائیلی جوہری مرکز کو نقصان پہنچنے یا تابکاری کی سطح میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دوسری جانب ایران نے نتانز جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری اخراج کی تردید کی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر اسرائیلی حکومت دیمونا جیسے انتہائی محفوظ علاقے میں میزائل روکنے میں ناکام رہی ہے تو یہ جنگ کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ہے۔

ادھر امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے وہاں سے نکالنے کے لیے حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -