کیوبا میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار قومی سطح پر بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا ہے جس سے ملک بھر میں اندھیرا چھا گیا ہے۔ کیوبا کی وزارت توانائی و کان کنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ قومی الیکٹرک سسٹم کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی پروٹوکولز پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک یونین کے مطابق اس تعطل کی بنیادی وجہ نیویٹاس پاور پلانٹ کے یونٹ نمبر چھ کا اچانک بند ہونا ہے جس کے نتیجے میں پورے ملک میں بجلی کی فراہمی کا سلسلہ زنجیری ردعمل کے تحت متاثر ہوا۔ گزشتہ پیر کو بھی کیوبا میں اسی نوعیت کا مکمل بلیک آؤٹ ہوا تھا جس سے ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہوئی تھی۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ ملک میں چوتھا بڑا بجلی کا بحران ہے۔
بجلی کے طویل تعطل اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے باعث کیوبا کے مختلف علاقوں میں عوامی احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے جمعہ کے روز کیوبا کے لیے خوراک، ادویات اور سولر پینلز پر مشتمل امدادی سامان فضائی راستے سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔
کیوبا کی حکومت اس بحران کا ذمہ دار امریکہ کی جانب سے عائد کردہ توانائی کی ناکہ بندی کو قرار دے رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیل فراہم کرنے والے ممالک پر ٹیرف کی دھمکیوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوئی ہے۔ کیوبا میکسیکو، روس اور وینزویلا سے تیل کی درآمد پر انحصار کرتا ہے تاہم وینزویلا سے تیل کی ترسیل اس وقت معطل ہوئی جب امریکہ نے جنوبی امریکی ملک پر حملہ کر کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا کی حکومت زوال کے قریب ہے اور وہ اس ملک کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل برمودیز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی کیوبا کے عوام کسی بھی بیرونی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ملک کی مزاحمت ناقابل تسخیر رہے گی۔
