پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان کی صاحبزادی مروی ملک 35 برس کی عمر میں برین ہیمرج کے باعث انتقال کر گئیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ پانچ روز سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ تین روز قبل ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
مرحومہ کی نماز جنازہ پیر کے روز سہ پہر ساڑھے تین بجے ڈی ایچ اے فیز 8 کراچی میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے مروی ملک کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل اور مرحومہ کی مغفرت کی دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اولاد کی موت ایک ناقابل بیان صدمہ ہے۔ انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اس اچانک موت کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ یہ خبر ان کے لیے صدمے کا باعث ہے اور یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔ کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی شیری رحمان اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوار رحمت میں جگہ دے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مروی ملک کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت صدمہ قرار دیا اور مرحومہ کی ابدی سکون کے لیے دعا کی۔
