پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ پی ایس ایل کے گیارہویں ایڈیشن کا انعقاد حکومتی کفایت شعاری مہم کے پیش نظر تماشائیوں کے بغیر کیا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے تمام میچز صرف لاہور اور کراچی میں کھیلے جائیں گے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ عالمی ایندھن بحران کے تناظر میں کیے گئے حکومتی فیصلوں کی روشنی میں یہ مشکل فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب عوام کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہو تو اسٹیڈیمز میں تیس ہزار افراد کا اجتماع مناسب نہیں ہوگا۔
چیئرمین پی سی بی نے تصدیق کی کہ اخراجات کم کرنے کی غرض سے پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تماشائیوں کی عدم موجودگی سے فرنچائزز کو ہونے والے گیٹ منی کے نقصان کا ازالہ پی سی بی خود کرے گا۔
محسن نقوی نے پشاور کے شائقین کرکٹ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے پیش نظر وہاں میچز کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جن شائقین نے ٹکٹ خرید لیے ہیں انہیں 72 گھنٹوں کے اندر رقم واپس کر دی جائے گی۔
ٹورنامنٹ کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا جس میں آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ چیئرمین پی سی بی کے مطابق کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور سال کے کسی اور حصے میں ونڈو دستیاب نہ ہونے کے باعث ایونٹ کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی ایندھن بحران کے پیش نظر سرکاری سطح پر سخت کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کٹوتی اور چار روزہ ورک ویک جیسی ہدایات شامل ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ فیصلہ تمام فرنچائزز کو اعتماد میں لے کر کیا گیا ہے تاکہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ ایونٹ کا تفصیلی شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا۔
