-Advertisement-

چین کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ، ‘خطرناک چکر’ شروع ہونے کا انتباہ

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے اشارے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کمی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز تقریباً آٹھ فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔...
-Advertisement-

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو آبنائے ہرمز کو تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو اس کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا۔ ایرانی حملوں کے باعث دنیا کا اہم ترین آبی راستہ بند ہو چکا ہے جہاں سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں 1970 کی دہائی کے بعد سے تیل کا بدترین بحران پیدا ہو گیا ہے۔

اس صورتحال پر چین نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سمیت تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے خبردار کیا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف ایک خطرناک چکر کو جنم دے گا، اور اگر یہ کشیدگی بڑھتی رہی تو پورا خطہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔

مشرق وسطیٰ کے لیے چین کے خصوصی ایلچی ژائی جون نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے دوروں کے بعد کہا کہ جس نے گھنٹی باندھی ہے، اسی کو اسے کھولنا ہوگا۔ چین نے عراق جنگ کی 23 ویں برسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس جنگ نے خطے کو شدید عدم استحکام اور تباہی سے دوچار کیا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع طویل ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے اور چینی برآمدات کی طلب میں کمی آئے گی۔ گولڈمین سیکس کی رپورٹ کے مطابق ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سست روی کے باعث چین کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے چین میں افراط زر میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیجنگ تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب، چین نے اس سوال پر کہ کیا بیجنگ نے ایران پر اپنے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے دباؤ ڈالا ہے، براہ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -