بیروت کے جنوبی مضافات میں پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیلی فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، جو کئی روز کے وقفے کے بعد حزب اللہ کے گڑھ پر براہ راست کارروائی ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دو ارکان کو حراست میں لے لیا ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ حملوں سے قبل اسرائیلی فوج نے مقامی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔ اس سے قبل دارالحکومت کے قریب واقع پوش علاقے حازمیہ میں بھی ایک فضائی حملہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی غیر ملکی شاخ کا ایک رکن تھا۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں ہتھیاروں کی تلاش کے دوران ان کے دستوں نے حزب اللہ کی رضوان فورس کے مسلح ارکان کی نشاندہی کی جو اینٹی ٹینک میزائل داغنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق ان افراد نے ہتھیار ڈال دیے، جنہیں گرفتار کر کے تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی مراکز پر 50 سے زائد حملوں کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی امن فوج یونائیٹڈ نیشنز انٹرم فورس ان لبنان نے تصدیق کی ہے کہ ناقورہ میں واقع ان کے ہیڈ کوارٹر پر ایک پروجیکٹائل گرا ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ کسی غیر ریاستی گروہ کی جانب سے داغا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو دریائے لیتانی پر موجود تمام ایسے پلوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے جو مبینہ طور پر عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل ایران اور لبنان دونوں میں اپنے حملے جاری رکھے گا۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ واضح رہے کہ لبنان میں جاری موجودہ کشیدگی کے دوران اب تک 1039 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اسرائیلی زمینی دستے بھی جنوبی لبنان میں کارروائی کر رہے ہیں۔
