-Advertisement-

عالمی برادری نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر تشدد کا لائسنس دے دیا ہے: اقوام متحدہ کی ماہر

تازہ ترین

نئی دھمکیوں کے بعد خاموشی اختیار نہیں کر سکتے، کینیڈین سکھ رہنما کا بیان

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے چیئرمین مونیندر سنگھ نے عالمی برادری سے...
-Advertisement-

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تعینات اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر تشدد کو ریاستی پالیسی بنا لیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر تشدد کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے اور زیادہ تر حکومتیں اس عمل میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

فرانسسکا البانیز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی زندگی جسمانی اور ذہنی اذیت کا تسلسل بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے تشدد کا دائرہ کار جیلوں کی دیواروں سے باہر نکل کر پورے مقبوضہ علاقے تک پھیل چکا ہے جس کا مقصد اجتماعی انتقام اور تباہی ہے۔

اسرائیلی مشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے فرانسسکا البانیز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جنیوا میں اسرائیلی سفارتی مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ البانیز انسانی حقوق کی علمبردار نہیں بلکہ انارکی پھیلانے والی شخصیت ہیں اور ان کی رپورٹ سیاسی تعصب پر مبنی ہے۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا کہ وہ انتہا پسندانہ بیانیے کو فروغ دے کر ریاست کے وجود کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی کونسل میں فلسطین کے سفیر ابراہیم خریشی نے رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات محض انفرادی نوعیت کے نہیں بلکہ منظم اور اجتماعی تشدد کا حصہ ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ ان کے استثنیٰ کو ختم کیا جا سکے۔

پاکستان نے 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جرائم کا ارتکاب فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمین سے بے دخل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے نمائندے نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی بربریت کے سامنے خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ ملی بھگت کے مترادف ہے۔

فرانسسکا البانیز نے خبردار کیا کہ اگر عالمی قانون کی پامالی کو نہ روکا گیا تو یہ صورتحال لبنان، ایران اور خلیجی ممالک سمیت دیگر خطوں تک پھیل جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے دستاویزی شکل میں جمع کیے گئے شواہد فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے ظالمانہ جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -