استنبول میں حکمران جماعت کے نائب چیئرمین برائے امور خارجہ ہارون ارماگان نے کہا ہے کہ ترکیہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور براہ راست مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے پیغامات پہنچانے کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ہارون ارماگان نے مزید کہا کہ یہ پیغامات خلیجی ممالک تک بھی پہنچائے جا رہے ہیں جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی وسیع تر علاقائی جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔
نیٹو کے رکن ملک ترکیہ نے حملوں کے آغاز سے قبل بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کی تھی اور اب بھی مسلسل دشمنی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ صدر طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ترکیہ امن کے قیام کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانا جاری رکھے گا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بتایا ہے کہ انقرہ تہران کو جنگ کو مزید پھیلانے سے گریز کرنے کا دوستانہ مشورہ دے رہا ہے اور ساتھ ہی واشنگٹن سے بھی رابطے میں ہے تاکہ فریقین کے موقف کو سمجھ سکے۔
اتوار کے روز ایک ترک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ ہاکان فیدان نے امریکی حکام اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کی ہے جس میں جنگ کے خاتمے کے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جنگ کے آغاز سے اب تک نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ترکیہ کی جانب آنے والے تین ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا ہے۔
