امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تصدیق کی ہے کہ فروری میں جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے آغاز سے اب تک تقریباً پانچ سو ایئرپورٹ سیکیورٹی افسران ملازمت چھوڑ چکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور فضائی ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے پچاس ہزار افسران وسط فروری سے تنخواہ کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے ایجنسی کی تاریخ میں پہلی بار سیکیورٹی چیکنگ کے لیے انتظار کا دورانیہ چار گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ بدھ کے روز تین ہزار ایک سو بیس افسران یعنی کل افرادی قوت کا گیارہ فیصد سے زائد عملہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوا۔
نیویارک کے جے ایف کے، ہیوسٹن، بالٹی مور، نیو اورلینز اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر غیر حاضری کی شرح تیس فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ ٹی ایس اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر عملے کی کمی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو چھوٹے ہوائی اڈوں کو بند کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایئرلائنز فار امریکہ کے سی ای او کرس سنونو نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس تعطل کو ختم کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سینیٹ جمعہ تک کسی معاہدے پر پہنچ بھی جائے تب بھی ویک اینڈ پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہے گا کیونکہ معاملات کی بحالی فوری ممکن نہیں ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایئرپورٹس پر سیکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کر سکتے ہیں۔ اس وقت سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اداروں کی فنڈنگ بحال کرنے پر بحث جاری ہے۔
ڈیموکریٹس کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن قوانین میں اصلاحات کی جائیں، جبکہ ریپبلکنز اس شرط کو مسترد کر رہے ہیں۔ اس سیاسی کشمکش کے دوران پیر سے چودہ امریکی ہوائی اڈوں پر امیگریشن اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سینکڑوں افسران کو سیکیورٹی اسکریننگ میں مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ یہ اہلکار شناختی کارڈ کی جانچ، داخلی و خارجی راستوں کی حفاظت اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آئی سی ای اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شٹ ڈاؤن کے دوران بھی تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔
