وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ افغانستان ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کی ہے تاہم اس کے بدلے میں ہمیں مناسب ردعمل نہیں ملا۔
پشین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے افغان شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں پرتشدد کارروائیاں بند کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں کسی کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سرفراز بگٹی نے خبردار کیا کہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مسائل کا حل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ایران میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے لیے پاکستان سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے پشین کو ڈویژن کا درجہ دینے پر اطمینان کا اظہار کیا اور صوبے کی ضروریات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام تر خدشات کے باوجود وہ صوبے بھر میں تعلیم، صحت اور دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
