-Advertisement-

نیپال کے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی احتجاج کے دوران ہلاکتوں کے الزام میں گرفتار

تازہ ترین

ایران کشیدگی: سعودی، ترک اور مصری وزرائے خارجہ کا دورہ اسلام آباد متوقع

اسلام آباد میں خطے کی کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ نائب...
-Advertisement-

نیپال کے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاری گزشتہ برس ستمبر میں انسداد بدعنوانی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران درجنوں ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی اور غفلت برتنے کے الزامات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

اولی کے علاوہ سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندر شاہ کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے ایک روز بعد کی گئی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے گزشتہ ہفتے ان دونوں رہنماؤں پر غفلت کے مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی تھی۔

پولیس ترجمان اوم ادھیکاری نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کو کھٹمنڈو پولیس آفس میں رکھا گیا ہے اور انہیں اتوار کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہیں۔

دو روزہ ہنگاموں کے دوران مجموعی طور پر 76 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں اولی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ کمیشن نے 74 سالہ اولی کو ان مظاہروں کے پہلے روز فائرنگ کے واقعات کو روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس میں کم از کم 19 نوجوان مظاہرین مارے گئے تھے۔

سابق وزیراعظم کے وکیل ٹیکا رام بھٹارئی نے اس گرفتاری کو غیر قانونی اور غیر مناسب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اولی کے فرار ہونے یا تفتیش سے بچنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے، اس لیے یہ اقدام بلاجواز ہے۔

گرفتاری کے بعد طبی بنیادوں پر 74 سالہ اولی کو، جن کے ماضی میں دو بار گردے تبدیل ہو چکے ہیں، پولیس اسٹیشن سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک یا ان کے وکیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ ان ہلاکتوں پر عوامی غم و غصے نے بالیندر شاہ کی راشٹریہ سوتنتر پارٹی کو حالیہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -