-Advertisement-

ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران یمن سے اسرائیل پر میزائل حملہ

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں...
-Advertisement-

اسرائیل نے ہفتے کے روز یمن سے داغے گئے میزائل کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے، جو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے بعد سے پہلا واقعہ ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو توقع ہے کہ فوجی کارروائیاں مہینوں کے بجائے چند ہفتوں میں مکمل ہو جائیں گی۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے ایک ماہ بعد تنازع مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں تک پھیل چکا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور افراط زر کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز تہران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ اسی دوران یمن سے آنے والے ایک میزائل کی نشاندہی بھی کی۔ یمن کے حوثی باغیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور محور مزاحمت کے خلاف کشیدگی جاری رہی تو وہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے اس مداخلت کی نوعیت واضح نہیں کی۔

حوثیوں کی جنگ میں شمولیت سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ وہ یمن سے دور اہداف کو نشانہ بنانے اور بحیرہ احمر و جزیرہ نما عرب کے تجارتی راستوں کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے بھی میزائل داغے گئے ہیں، جبکہ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دمشق کے اوپر اسرائیلی دفاعی نظام کے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے دوران دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین میں بھی ہفتے کے روز میزائل حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ابوظہبی کے کزاڈ اکنامک زون کے قریب میزائل کو روکے جانے کے بعد لگنے والی آگ اور حملوں کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں ایک رہائشی عمارت پر امریکی اور اسرائیلی حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق تہران کی ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -