-Advertisement-

نیپال میں ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندر شاہ نے بطور وزیراعظم حلف اٹھا لیا

تازہ ترین

امریکی صدر کے خلاف ‘نو کنگز’ تحریک: ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی توقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور مبینہ آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف آج ملک بھر میں بڑے پیمانے...
-Advertisement-

نیپال کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں معروف ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندرا شاہ المعروف بالین نے جمعہ کے روز وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ پیش رفت ان کی جماعت راشٹریہ سواتانترا پارٹی کی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ انتخابات سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہوئے تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کی حمایت سے ملنے والا یہ مینڈیٹ ایک نادر موقع ہے، تاہم اس کے ساتھ بڑے چیلنجز بھی جڑے ہیں۔ تجزیہ کار وشنو سپکوٹا کا کہنا ہے کہ اتنی نوجوان جماعت کے لیے یہ ایک بے مثال موقع ہے، لیکن عوامی توقعات بہت زیادہ ہیں جنہیں پورا کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔

انتخابات میں بالیندرا شاہ نے کے پی شرما اولی کو ان کے روایتی حلقے میں شکست دی۔ راشٹریہ سواتانترا پارٹی نے پارلیمنٹ کی 165 میں سے 125 نشستیں حاصل کیں اور توقع ہے کہ متناسب نمائندگی کے بعد جماعت دو تہائی اکثریت تک پہنچ جائے گی۔ پارٹی رہنما ششیر کھنال کے مطابق دو تہائی مینڈیٹ ہماری توقعات سے کہیں زیادہ ہے، جس سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں کارکی کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد شامل ہے، جس میں گزشتہ برس ہونے والے احتجاج کے دوران ہلاکتوں اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تحقیقات کی گئی تھیں۔ یہ رپورٹ آٹھ مارچ کو عبوری حکومت کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ عوامی حلقوں کی جانب سے شفافیت اور احتساب کا شدید مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حکومت کے لیے ایک چیلنج پارٹی کے اندرونی معاملات بھی ہیں، خاص طور پر پارٹی کے بانی ربی لامیچانے کے خلاف فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہ اور لامیچانے کا اتحاد مفادات پر مبنی ہے، تاہم شاہ کو قانون کی حکمرانی کو ہر صورت مقدم رکھنا ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئی انتظامیہ بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کرے گی اور 1990 سے اب تک کے اعلیٰ حکام کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا جائے گا۔ نوجوان کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے نتائج نہ دیے تو سڑکوں پر احتجاج ہی اصل اپوزیشن کا کردار ادا کرے گا۔

بین الاقوامی سطح پر بھارت نے نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بالیندرا شاہ اور لامیچانے کو مبارکباد پیش کی ہے، جبکہ شاہ نے بھی بھارت کے ساتھ تاریخی اور کثیر الجہتی تعلقات کو مستحکم رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ اب پوری قوم کی نظریں اس نئی قیادت پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ نوجوان نسل کی امنگوں کے مطابق ملک میں حقیقی تبدیلی لا پاتے ہیں یا نہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -