ایران نے پاکستان سے منسلک دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی اجازت دے دی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ جہاز گزشتہ ایک ماہ سے خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔ شپنگ ذرائع کے مطابق ان جہازوں میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا جہاز ملتان اور ایک چارٹرڈ ٹینکر پی الیکی شامل ہیں۔
یہ دونوں جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں اور اب پاکستان کی جانب گامزن ہیں۔ چارٹرڈ ٹینکر میں تقریباً 85 ملین لیٹر خام تیل موجود ہے اور توقع ہے کہ دونوں جہاز 31 مارچ تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ خطے میں تنازع کے آغاز کے بعد سے تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ گئے تھے، جس کے باعث یہ جہاز کئی ہفتوں سے خلیج میں موجود تھے۔
ایران کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ان جہازوں نے گزشتہ روز خلیجی ممالک کے قریب سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایران مبینہ طور پر خلیج میں کئی بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جس سے دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز سے نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس رکاوٹ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
اس سے قبل 16 مارچ کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا ایک اور ٹینکر کراچی بھی کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس وقت سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آبنائے سے جہاز رانی کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ ایران نے خبردار کیا تھا کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم دوست ممالک کے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ٹینکر کراچی کو اس وقت گزرنے کی اجازت دی جب اس کی ادائیگی چینی کرنسی یوآن میں طے پائی، جسے انہوں نے بدلتے ہوئے علاقائی رجحانات کی علامت قرار دیا تھا۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم ترین مرکز ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ پاکستان کے جہازوں کا محفوظ انخلا ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود بحری نقل و حمل کے لیے محدود مواقع اب بھی موجود ہیں۔
