-Advertisement-

ایرانی ڈرون حملوں سے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ریڈار سسٹم شدید متاثر

تازہ ترین

لبنان: 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں 1189 افراد شہید، 3427 زخمی

لبنان کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ دو مارچ...
-Advertisement-

کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ریڈار سسٹم کو ڈرون حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کو ٹھہرایا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کونا کے مطابق خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایمرجنسی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کو محفوظ بنانے کے ساتھ آپریشنل بحالی کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

سول ایوی ایشن کے ترجمان عبداللہ الراجہی کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر شہری ہوا بازی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور فضائی آپریشنز کو معمول پر لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو پہلے ہی تجارتی پروازوں کے لیے بڑی حد تک بند ہے، 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے مسلسل نشانہ بن رہا ہے۔

موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ حملے حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے واقعات کا تسلسل ہیں۔ بدھ کے روز ایک ڈرون حملے میں ایئرپورٹ کے فیول ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس سے قبل 14 مارچ کو ڈرونز کے ذریعے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 8 مارچ کو ہونے والے حملے میں فیول ٹینکس کو نقصان پہنچا تھا۔ ایک اور واقعے میں مسافر ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں کئی افراد معمولی زخمی ہوئے تھے۔

مسلسل حملوں کے باعث خلیجی خطے میں فضائی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور ایندھن کی قلت اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔ خطے میں کشیدگی کا دائرہ کار پھیل رہا ہے اور ایران کے اندر امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ فضائی آپریشنز کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل سمیت اردن، عراق اور ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔ ان حملوں نے علاقائی استحکام کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے جبکہ اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے عالمی توانائی اور ایوی ایشن مارکیٹس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -