-Advertisement-

ایران کی موجودہ قیادت بہت سمجھدار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

تازہ ترین

صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کے ثالثی کردار پر اہم اجلاس آج ہوگا

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا گیا...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایران کی نئی قیادت کا رویہ کافی معقول ہے۔ ایئر فورس ون میں سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ تہران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے تاہم انہوں نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

ٹرمپ کے مطابق تہران میں اعلیٰ حکام اور سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد حکومت میں تبدیلی واقع ہو چکی ہے اور ان کی جگہ لینے والے نئے حکام کے ساتھ معاملات طے پانا ممکن نظر آتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر دوغلی پالیسی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف واشنگٹن مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے تو دوسری طرف زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کسی صورت امریکی دباؤ یا تذلیل قبول نہیں کرے گا اور اگر امریکی فوج نے پیش قدمی کی تو تہران بھرپور جواب دے گا۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے ایران کے وسطی اور مغربی حصوں سمیت تہران پر ایک سو چالیس سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کا ہدف بیلسٹک میزائل لانچ سائٹس اور ذخیرہ کرنے والے مراکز تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں مہرآباد ایئرپورٹ اور تبریز شہر کا پیٹرو کیمیکل پلانٹ نشانہ بنے ہیں۔ جوابی کارروائی میں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل کا ملبہ جنوبی اسرائیل کے شہر بئر سبع کے قریب ایک کیمیکل پلانٹ پر گرا جس کے بعد حکام نے عوام کو مضر صحت مواد کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

خطے میں کشیدگی کے پیش نظر امریکی عسکری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خطے میں کئی سو اسپیشل آپریشنز اہلکار پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل جمعہ کو امریکی میرینز کا ایک بڑا دستہ ایمفیبیئس اسالٹ شپ کے ذریعے پہنچا تھا۔ پینٹاگون کی جانب سے زمینی افواج کے استعمال سمیت مختلف عسکری آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم امریکی صدر نے تاحال کسی بھی زمینی حملے کے منصوبے کی باضابطہ منظوری نہیں دی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -