فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تقریباً ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور لچک و پائیداری کی سہولت کے دوسرے جائزے کی کامیابی ملکی معاشی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
عاطف اکرام شیخ کے مطابق اس معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت اور 210 ملین ڈالر لچک و پائیداری کی سہولت سے ملیں گے جس سے ملکی معیشت کو درکار ریلیف ملے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس پیش رفت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور بین الاقوامی درجہ بندی کے اداروں اور دوطرفہ شراکت داروں میں اعتماد بحال ہوگا۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے زور دیا کہ استحکام ہی منزل نہیں بلکہ حکومت کو نجی شعبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر کے صنعتی ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ بلند آپریشنل اخراجات اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کاروباری برادری کے لیے مراعات کا اعلان کیا جائے۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے شرح سود میں فوری اور نمایاں کمی کی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ انہوں نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگو نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر فریٹ چارجز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چین کے مسائل کے دوران ملکی معاشی پالیسیوں کو برآمد کنندگان کے لیے بوجھ بننے کے بجائے سہارا بننا چاہیے۔
ایف پی سی سی آئی نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں جو پائیدار صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکیں۔
