عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے گروپ سیون کے وزراء کا اجلاس پیر کو منعقد ہوگا۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اس ورچوئل اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خزانہ، توانائی اور مرکزی بینکوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔
فرانس کے وزیر خزانہ رولینڈ لیسکیور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحران کے اثرات مختلف ممالک پر مختلف انداز میں مرتب ہو رہے ہیں اور ایشیائی خطہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد عالمی مالیاتی منڈیوں اور معیشت پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
فرانسیسی وزیر کے مطابق نصف صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ گروپ سیون نے اس طرز کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان کے نمائندے شرکت کریں گے۔ امریکہ کی جانب سے گروپ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے لگائی گئی ناکہ بندی کو ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
گزشتہ ہفتے گروپ سیون کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سمندری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرے۔ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر حکومتیں اپنی معیشتوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، تاہم تنازع کے دورانیے اور وسعت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے پالیسی سازی کو مشکل بنا دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جنگی اہداف کا حصول تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں امریکی فوج کی بڑی تعداد میں تعیناتی جاری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں نصف سے زائد شہری شامل ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق دو مارچ سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
