نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار منگل کے روز چین کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد علاقائی کشیدگی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین کے مابین ہمہ وقتی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری قائم ہے، جس کی بنیاد علاقائی اور عالمی مسائل پر مسلسل مشاورت اور قریبی رابطہ کاری ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے رہنما خطے میں رونما ہونے والی پیش رفت اور مشترکہ خدشات پر بات چیت کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے چار ملکی اجلاس کی میزبانی مکمل کی ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے اور تنازع کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران بیجنگ نے اسلام آباد کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کا آغاز بلاشبہ ایک مشکل عمل ہے تاہم مزید جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے یہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار اپنے کندھے کی ہڈی میں فریکچر کے باوجود یہ دورہ کر رہے ہیں۔ انہیں طبی ماہرین نے آرام کا مشورہ دیا تھا، تاہم پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جس کے پیش نظر انہوں نے دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
نائب وزیراعظم کو یہ چوٹ اتوار کے روز اسلام آباد میں مصری وزیر خارجہ کا استقبال کرتے ہوئے پھسلنے کے باعث آئی تھی۔ ان کے صاحبزادے علی ڈار نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصدیق کی تھی۔
