تہران میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم سپاہ نیوز کے مطابق کمانڈر تنگسیری حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز نے ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی تھی کہ فضائی کارروائی میں بحری کمانڈ کے اعلیٰ افسران کو نشانہ بنایا گیا جس میں علی رضا تنگسیری ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں دیگر اعلیٰ افسران بھی مارے گئے ہیں تاہم ان کی تعداد اور ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ علی رضا تنگسیری آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز نے بھی دعویٰ کیا کہ تنگسیری آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کو روکنے کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھے۔
خطے کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر فوجی عہدیدار کی ہلاکت ایران کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، جس سے پہلے سے کشیدہ خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ واقعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ دونوں جانب سے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تہران کی جانب سے اس ہلاکت کی تصدیق کے بعد خطے میں مزید کشیدگی متوقع ہے۔
