خلیج فارس میں واقع جزیرہ خارگ ایرانی تیل کی صنعت کا مرکزی مرکز بن چکا ہے، جہاں سے ایران اپنی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ دنیا بھر میں بھیجتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا تو امریکہ اس اہم ترین برآمدی مرکز کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ امریکی فوج اس جزیرے پر آسانی سے قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جزیرہ خارگ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہونے کے باوجود ایران کی معاشی لائف لائن ہے۔ یہ ایرانی ساحل سے 30 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں کوئی تیل کے کنویں تو نہیں ہیں، مگر یہ ایران کے سب سے بڑے آئل ٹرمینل، اسٹوریج ٹینکس اور پائپ لائنوں کا گڑھ ہے۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق، 13 مارچ کو امریکی فورسز نے جزیرے پر ایک بڑے پیمانے پر درست حملہ کیا تھا جس میں ایران کے 90 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، تاہم تیل کی تنصیبات کو اس وقت محفوظ رکھا گیا تھا۔
امریکی انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے اور فضائی دفاعی نظام بشمول مین پیڈز میزائل اور بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔ پینٹاگون کی جانب سے علاقے میں پیرا ٹروپرز اور میرینز کی نقل و حرکت جاری ہے، جس سے زمینی آپریشن کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سابق امریکی جنرل جوزف ووٹل کے مطابق جزیرے پر قبضے کے لیے 800 سے 1000 امریکی میرینز کافی ہو سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنا ایک مشکل ترین چیلنج ہوگا۔
ماہرین کے مطابق جزیرہ خارگ کے قریب ہی ایران کا شہر بوشہر واقع ہے، جو ایک اہم فوجی مرکز ہے اور وہاں سے ایران خلیج کے شمالی حصے کا دفاع کرتا ہے۔ پروفیسر فلپس اوبرائن کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی رینج میں ہونے کی وجہ سے امریکی فوج کے لیے اس جزیرے پر مستقل قیام مشکل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر لانا یا تیل کی برآمدات روک کر ایران پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر امریکہ اس جزیرے کی تنصیبات کو تباہ کرتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایران اپنی تیل کی برآمدات سے محروم ہوا تو وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو مکمل طور پر بند کر سکتا ہے، جس کے سنگین عالمی نتائج برآمد ہوں گے۔
