-Advertisement-

پوپ کے بیان پر وائٹ ہاؤس کا امریکی فوجیوں کے لیے دعاؤں کا دفاع

تازہ ترین

اسرائیلی حملے میں یتیم ہونے والی شامی بچی کی وطن واپسی اور اسکول جانے کی خواہش

بیروت کے جنوبی مضافات میں مقیم بارہ سالہ شامی بچی نریمان العیسیٰ کی زندگی ایک ماہ قبل تک دیگر...
-Advertisement-

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے امریکی فوجیوں کے لیے دعائیں کرنے کے عمل کا دفاع کیا ہے، یہ ردعمل پوپ لیو چہار دہم کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خدا جنگ چھیڑنے والوں کی دعائیں نہیں سنتا۔

امریکی صدر کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور فوجی قیادت کی جانب سے عوام سے اپنے ملک کی خدمت کرنے والے فوجیوں کے لیے دعا کی اپیل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے اس عمل کو ایک انتہائی نیک کام قرار دیا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو دوسرے ماہ میں داخل ہوتے ہوئے پوپ لیو چہار دہم نے پام سنڈے کے موقع پر اپنے خطبے میں کہا کہ ہمارا خدا جنگ کو مسترد کرتا ہے اور وہ ان لوگوں کی دعائیں نہیں سنتا جو جنگ مسلط کرتے ہیں۔

پوپ لیو چہار دہم، جو کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں، مسلسل جنگ کی مذمت کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سے وہ اپنے بیانات میں کسی مخصوص فریق کا نام لینے سے گریز کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی بنیاد یہودی و مسیحی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں بھی رہنماؤں اور فوجیوں نے دعائیں کی ہیں اور خود سروس ممبران ان دعاؤں کو اہمیت دیتے ہیں۔

دریں اثنا امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی ایران کے ساتھ تنازع کے حوالے سے مذہبی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پینٹاگون میں دعا کی کہ ہر گولی دشمنوں کے خلاف درست نشانے پر لگے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پوپ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، لہذا فریقین کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -