پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر لاہور قلندرز کے بلے باز فخر زمان پر دو میچوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔ پی سی بی کے مطابق فخر زمان لیول تھری کے جرم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔
یہ واقعہ اتوار 29 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ کے آخری لمحات میں پیش آیا۔ فخر زمان پر کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.14 کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا جو بال کی حالت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے سے متعلق ہے۔
میچ کے دوران آن فیلڈ امپائرز شاہد سیکت اور فیصل خان آفریدی نے لاہور قلندرز پر پانچ رنز کا جرمانہ عائد کیا تھا جبکہ کراچی کنگز کی اننگز کے آخری اوور سے قبل گیند کو بھی تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ٹی وی امپائر آصف یعقوب اور چوتھے امپائر طارق رشید بھی شامل تھے۔
فخر زمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے باضابطہ سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔ میچ ریفری روشن ماہنامہ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی، ٹیم ڈائریکٹر سمین رانا اور مینیجر فاروق انور بھی موجود تھے۔
ضابطہ اخلاق کے تحت لیول تھری کی خلاف ورزی پر کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو میچوں کی پابندی ہو سکتی ہے۔ فخر زمان کے خلاف فیصلہ زیادہ سے زیادہ سزا کے زمرے میں آتا ہے۔ آرٹیکل 2.14 کا اطلاق گیند کو جان بوجھ کر خراب کرنے یا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر ہوتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد فخر زمان 3 اپریل کو ملتان سلطانز اور 9 اپریل کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچوں میں ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ فخر زمان کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے اور وہ تحریری فیصلہ ملنے کے 48 گھنٹوں کے اندر پی ایس ایل ٹیکنیکل کمیٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔
