برطانیہ کے بادشاہ چارلس اپریل کے آخر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ بکنگھم پیلس کے مطابق بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے بعد وہ برمودا کا دورہ بھی کریں گے۔ یہ 2007 کے بعد کسی برطانوی بادشاہ کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ بادشاہ چارلس کے ساتھ وقت گزارنے کے منتظر ہیں اور ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ دورے کا آغاز 27 اپریل کو ہوگا اور اگلے روز وائٹ ہاؤس میں شاہی جوڑے کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا۔
برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جنگ میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی ہچکچاہٹ ہے۔ سٹارمر نے ابتدا میں برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، جس پر صدر ٹرمپ نے کھل کر تنقید کی تھی۔ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم پر طنزیہ جملے کستے ہوئے کہا کہ انہیں اب اپنی لڑائی خود لڑنا سیکھنا ہوگا کیونکہ امریکہ ہر بار مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا۔
برطانوی حکومت کو امید ہے کہ بادشاہ چارلس کی سفارت کاری دونوں ممالک کے درمیان خراب ہوتے تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چاگوس جزائر کی خودمختاری کے معاملے پر بھی ٹرمپ انتظامیہ اور برطانیہ کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔
اس دورے کے دوران بادشاہ چارلس کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، جن میں صدر ٹرمپ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق متنازعہ خیالات اور برطانوی عوام میں ٹرمپ کی عدم مقبولیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ، بادشاہ کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے جیفری ایپسٹین کیس میں زیر تفتیش ہونے کے باعث بھی سوالات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
