واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ 29 اپریل کو ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے حلفیہ بیان دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیشی ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کے آغاز کے بعد کانگریس میں ان کی پہلی عوامی گواہی ہوگی، اگرچہ اس تاریخ میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔
اس سماعت کا مقصد محکمہ دفاع کے سالانہ بجٹ کا جائزہ لینا ہے، تاہم ارکان کانگریس کی جانب سے انتظامیہ کی جنگی حکمت عملی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ بدھ کو ہونے والی ایک خفیہ بریفنگ کے بعد کمیٹی کے چیئرمین مائیک روجرز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام معلومات فراہم کرنے میں انتہائی محتاط ہیں اور قانون سازوں کو ان کے سوالات کے جواب نہیں مل رہے۔
کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے بھی انتظامیہ کی پالیسیوں کو غیر واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں اہداف کے حصول کا کوئی مربوط منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود 50 ہزار امریکی فوجیوں کی حفاظت اور ممکنہ زمینی دستوں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی شدید ابہام پایا جاتا ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان نے باقاعدہ خط کے ذریعے شفافیت کے فقدان، اضافی اخراجات اور ممکنہ طور پر 200 ارب ڈالر کے ضمنی بجٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن نے معلومات کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلسل اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن فیصلہ کن ثابت ہوں گے، جبکہ تنازعہ کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ امریکہ میں گیس کی قیمتیں چار سال میں پہلی بار چار ڈالر فی گیلن کی سطح سے تجاوز کر چکی ہیں جو جنگ کے معاشی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔
