ایران کی بندرگاہ بندر عباس پر اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے پاکستانی شہری یاسر خان کی میت منگل کے روز پاکستان پہنچا دی گئی۔ یاسر خان کے ہمراہ اسی حملے میں زخمی ہونے والے کراچی کے تین نوجوان بھی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
زخمی نوجوانوں میں شامل اسود خان کے والد جہانزیب خان نے بتایا کہ ان کا تعلق کراچی کے علاقے بنارس سے ہے۔ اسود خان حملے میں شدید زخمی ہوا جبکہ دیگر دو نوجوانوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ دیگر زخمیوں کا تعلق کیماڑی کے علاقے سے بتایا گیا ہے۔
واقعے کے بعد زخمیوں کو علاج کے لیے کراچی کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شہید یاسر خان کی میت کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے ان کی رہائش گاہ روانہ کر دیا گیا ہے۔
یاسر خان کی میت کو تفتان بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا تھا جس کے بعد ضروری قانونی کارروائی مکمل کرکے اسے کراچی بھیجا گیا۔ لواحقین اور زخمیوں کے اہل خانہ ایک روز قبل ہی تفتان پہنچ گئے تھے جہاں بلوچستان حکومت کے نمائندے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
کراچی کے علاقے مائی پور کے رہائشی یاسر خان چھ ماہ قبل ورک ویزے پر ایران گئے تھے۔ وہ بندر عباس پورٹ پر ٹگ بوٹ پر کام کر رہے تھے کہ ایک میزائل حملے نے ان کی کشتی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے۔
