-Advertisement-

اتحادیوں کی مخالفت پر ٹرمپ کا نیٹو پر شدید برہمی کا اظہار

تازہ ترین

چیف جسٹس کا عدالتی اصلاحات کا جائزہ، کیس مینجمنٹ میں بہتری پر اطمینان کا اظہار

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں جوڈیشل ریفارمز پر پیش رفت کا جائزہ لینے...
-Advertisement-

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز نیٹو کے اہم یورپی اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر مغربی اتحاد میں دراڑیں گہری ہو رہی ہیں۔ اس تنازع کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور ایندھن کی قیمتیں کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے پر صدر ٹرمپ نے فرانس، برطانیہ، اٹلی اور اسپین پر برہمی کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ یہ ممالک امریکی قیادت میں جاری فوجی مہم میں مکمل تعاون نہیں کر رہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں انہوں نے اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا تیل خود حاصل کریں اور خبردار کیا کہ اب انہیں اپنی جنگ خود لڑنا سیکھنا ہوگا کیونکہ امریکہ اب ان کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا۔

یورپی دارالحکومتوں کی جانب سے مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ فرانس نے امریکی طیاروں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ اٹلی نے سسلی کے ایئر بیس پر مخصوص آپریشنز کے لیے لینڈنگ کی سہولت دینے سے معذرت کر لی ہے۔ اسپین نے بھی اپنی فضائی حدود امریکی جنگی طیاروں کے لیے بند کر دی ہیں۔ تاہم روم اور پیرس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارتی تعاون بدستور قائم ہے۔

عالمی منڈیوں میں توانائی کی سپلائی میں خلل کے باعث شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور امریکہ میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔ پینٹاگون کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دن فیصلہ کن ہوں گے اور واشنگٹن فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا کہ امریکہ کے پاس آپشنز موجود ہیں جبکہ ایران کے پاس محدود ہو رہے ہیں۔

اب تک 150 سے زائد ایرانی جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے خطے میں پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی شہر اصفہان میں امریکی حملوں سے دھماکے ہوئے جبکہ تہران سمیت دیگر شہروں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جن میں دبئی کے قریب ایک کویتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب اور بحرین میں بھی میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیل نے ایران اور بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد جاری اس تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق 1900 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تہران نے دھمکی دی ہے کہ وہ خطے میں موجود امریکی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان اور چین نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکہ ایران کے اہم توانائی کے مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -