عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار اور برک شائر ہتھ وے کے چیئرمین وارن بفیٹ نے گیٹس فاؤنڈیشن کے لیے اپنی سالانہ اربوں ڈالر کی امداد جاری رکھنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا اظہار کیا ہے۔ یہ پیشرفت آنجہانی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ بل گیٹس کے روابط کے بارے میں سامنے آنے والی نئی دستاویزات کے بعد ہوئی ہے۔
نوے سالہ وارن بفیٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ فی الحال حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں ایسی معلومات مل رہی ہیں جن سے وہ پہلے آگاہ نہیں تھے۔ بفیٹ نے واضح کیا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان نئی تفصیلات سے حیران ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے فروری میں جاری کردہ دستاویزات سے انکشاف ہوا تھا کہ بل گیٹس نے سن دو ہزار آٹھ میں فلوریڈا میں جسم فروشی کے الزامات میں سزا پانے کے بعد بھی جیفری ایپسٹین سے متعدد بار ملاقاتیں کیں۔ ان دستاویزات میں گیٹس اور ایپسٹین کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
وارن بفیٹ سن دو ہزار چھ سے اب تک گیٹس فاؤنڈیشن کو برک شائر کے حصص کی مد میں سینتالیس ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم عطیہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ برس گیٹس فاؤنڈیشن کو ان کا عطیہ ساڑھے چار ارب ڈالر سے زائد رہا تھا۔
بل گیٹس کے ترجمان نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ ایپسٹین سے ملاقات کرنا ایک سنگین غلطی تھی، تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گیٹس کسی بھی مجرمانہ سرگرمی کا حصہ نہیں رہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ ایپسٹین ان کے گرانٹ دینے کے عمل میں شامل تھے۔
وارن بفیٹ نے کہا کہ انہیں فاؤنڈیشن کو دیے گئے عطیات پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے تاہم وہ چاہتے ہیں کہ بعض واقعات پیش نہ آتے۔ انہوں نے جیفری ایپسٹین کی جانب سے لوگوں کو دھوکہ دینے کی صلاحیت پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص لوگوں کی کمزوریوں کو جانتا تھا اور اس نے کئی زندگیاں تباہ کر دیں۔
سن دو ہزار چوبیس میں بفیٹ نے اعلان کیا تھا کہ ان کی وفات کے بعد گیٹس فاؤنڈیشن کے لیے ان کی امداد کا سلسلہ رک جائے گا اور ان کی باقی ماندہ دولت کا ننانوے اعشاریہ پانچ فیصد حصہ ان کے بچوں کی زیر نگرانی ایک چیریٹی ٹرسٹ کو منتقل کر دیا جائے گا۔
