چیک جمہوریہ نے پراگ میں کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈنمارک کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے کر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ اضافی وقت تک میچ دو دو گول سے برابر رہنے کے بعد فیصلہ پنالٹی ککس پر ہوا جہاں مائیکل سیڈیلک کے فیصلہ کن گول نے چیک ٹیم کی جیت کو یقینی بنایا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی چیک جمہوریہ 2006 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا۔
میچ کے دوران چیک جمہوریہ کی جانب سے پاول سلک نے کھیل کے تیسرے منٹ میں گول کر کے برتری دلائی، جسے 72 ویں منٹ میں ڈنمارک کے جوآخم اینڈرسن نے ہیڈر کے ذریعے برابر کیا۔ اضافی وقت کے 100 ویں منٹ میں لیڈسلاو کریچی نے میزبان ٹیم کو دوبارہ برتری دلائی، تاہم 111 ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کاسپر ہوگ نے گول کر کے مقابلہ پھر برابر کر دیا۔
پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ڈنمارک کی جانب سے صرف کرسچن ایرکسن ہی گیند کو جال میں پہنچا سکے، جبکہ راسموس ہوجلنڈ کی کک کراس بار سے ٹکرا گئی اور دیگر کھلاڑی بھی گول کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب چیک جمہوریہ نے بہتر اعصابی کنٹرول کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی سمیٹی۔
میچ کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کے کپتان لیڈسلاو کریچی کا کہنا تھا کہ وہ الفاظ سے قاصر ہیں اور یہ کامیابی ٹیم کے عزم اور سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ چیک کوچ میروسلاو کوبیک نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ایک شاندار کامیابی قرار دیا۔
ورلڈ کپ 2026 امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں جون اور جولائی میں کھیلا جائے گا۔ چیک جمہوریہ کو گروپ اے میں میکسیکو، جنوبی افریقہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ چیک جمہوریہ کی یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ٹیم کو کوالیفائنگ راؤنڈ کے دوران شدید تنقید اور کوچنگ میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا رہا تھا۔
اس شکست کے بعد ڈنمارک کی ٹیم 2014 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم ہو گئی ہے۔ چیک جمہوریہ کی فٹ بال تاریخ میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ 1993 میں سلواکیہ سے علیحدگی کے بعد یہ ان کی ورلڈ کپ میں صرف دوسری شرکت ہوگی۔
