-Advertisement-

ایکواڈور میں منشیات فروشوں کے خلاف امریکی کمانڈوز اور مقامی فوج کا مشترکہ آپریشن

تازہ ترین

قومی گندم نگران کمیٹی کا خریداری کے انتظامات اور غذائی تحفظ پر اہم اجلاس

قومی گندم نگران کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں گندم کی خریداری کے انتظامات، صوبوں...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی حکام کے مطابق امریکی کمانڈوز نے حالیہ دنوں کے دوران ایکواڈور کی فوج کے ساتھ مل کر ساحلی علاقے میں ایک مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایک مبینہ نارکو ٹیررسٹ تنظیم کے مجرمانہ مرکز کو ختم کرنا تھا۔ لنزا مارینا نامی اس آپریشن کا ہدف ایک ایسا کمپاؤنڈ تھا جسے لوس چونیروس نامی طاقتور مجرمانہ تنظیم کی جانب سے تیز رفتار کشتیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فورسز نے اس مشن میں مشاورتی کردار ادا کیا اور ایکواڈور کے اہلکاروں کو منشیات سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں معاونت فراہم کی۔ امریکی سدرن کمانڈ نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

محکمہ دفاع کی جانب سے ماضی میں بھی سکیورٹی تعاون کے معاہدوں کے تحت غیر ملکی فورسز کی معاونت کی جاتی رہی ہے۔ امریکی قانون کی دفعہ 127 ای کے تحت امریکی اسپیشل آپریشن فورسز دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی غیر ملکی افواج کی مدد کرنے کی مجاز ہیں۔ ان مشنز کی نگرانی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ڈیفنس اسپیشل آپریشنز کرتے ہیں جبکہ ان کی منظوری سیکرٹری دفاع کی جانب سے دی جاتی ہے۔

گزشتہ برس امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے روایتی جنگی میدانوں سے باہر فضائی حملوں اور اسپیشل آپریشنز کے لیے کمانڈروں کو دی گئی آزادی میں اضافہ کیا ہے، جس کی تصدیق سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی کی ہے۔ رواں سال مارچ کے اوائل میں امریکہ اور ایکواڈور نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ ستمبر 2025 سے اب تک سمندری حدود میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث کشتیوں کے خلاف 47 حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 163 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی سدرن کمانڈ کے کمانڈر میرین جنرل فرانسس ڈونوون نے گزشتہ ماہ اپنے بیان میں ایکواڈور کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نارکو ٹیررسٹ کے خلاف بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ برس سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے لوس چونیروس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اور عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے مطابق 1990 کی دہائی میں قائم ہونے والا یہ گروپ اب ایک وسیع نیٹ ورک بن چکا ہے جس کے تقریباً 12 ہزار ارکان ہیں۔ یہ تنظیم ایکواڈور کے علاوہ کولمبیا اور پیرو میں بھی متحرک ہے اور اس کے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سمیت البانیہ کے مجرمانہ گروہوں کے ساتھ بھی گہرے روابط ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -