امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے ثالثوں سے منگل کے روز اہم رابطہ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وانس خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر نے نجی سطح پر یہ پیغام پہنچایا ہے کہ اگر امریکی مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
اس دوران جے ڈی وانس نے تہران کو ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ رہے ہیں اور اگر ایران نے معاہدے پر آمادگی ظاہر نہ کی تو ایرانی انفراسٹرکچر پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔
پاکستان اس تنازع میں امریکہ اور ایران کے درمیان بطور ثالث اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پانچ ہفتوں سے جاری اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے نائب صدر وانس کی سرگرمیاں ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کی غمازی کرتی ہیں۔ جے ڈی وانس کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور وہ بیرون ملک طویل امریکی عسکری مداخلت کے حوالے سے محتاط موقف رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
مذاکراتی عمل میں نائب صدر وانس کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی تاہم انہوں نے ایران کے پاور گرڈ پر حملوں کو چھ اپریل تک مؤخر کر دیا ہے تاکہ تہران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید برقرار رہے۔
