واشنگٹن (خبر رساں ادارے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران سے جلد انخلا کرے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دوبارہ واپسی کا آپشن کھلا رکھا جائے گا۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث صدر ٹرمپ پر شدید دباؤ پایا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ آج رات نو بجے قوم سے اہم خطاب کریں گے جس میں وہ جنگ کے مستقبل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کریں گے۔ اس سے قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے نیٹو اتحاد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر نیٹو کی جانب سے امریکی اہداف کی حمایت نہ کرنا مایوس کن ہے۔
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ امریکا کے نیٹو سے انخلا پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحاد صرف ایک طرفہ راستہ ہے اور ضرورت کے وقت اس اتحاد نے کبھی ساتھ نہیں دیا۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران اب جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی فضائی حملوں میں ہلاکت کے بعد وہاں حکومت کی تبدیلی عمل میں آ چکی ہے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان موجود ہے کیونکہ وہ مزید حملوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو امریکا مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ ایران کے زیر زمین موجود یورینیم کے ذخائر کی نگرانی سیٹلائٹ کے ذریعے جاری رکھی جائے گی۔
