مارچ 2026 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیل میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ سیمنٹ کی ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ترسیل 3.745 ملین ٹن رہی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 3.712 ملین ٹن کے مقابلے میں 0.91 فیصد زیادہ ہے۔
ملکی سطح پر سیمنٹ کی فروخت میں معمولی کمی دیکھی گئی جو 3.103 ملین ٹن سے کم ہو کر 3.097 ملین ٹن پر آ گئی۔ تاہم برآمدات میں 6.56 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ حجم 6 لاکھ 8 ہزار 614 ٹن سے بڑھ کر 6 لاکھ 48 ہزار 564 ٹن تک پہنچ گیا۔
شمالی ریجن کی ملوں سے ترسیل 3.07 فیصد اضافے کے ساتھ 2.639 ملین ٹن رہی، جبکہ جنوبی ریجن کی ملوں کی ترسیل 3.89 فیصد کمی کے ساتھ 1.11 ملین ٹن تک محدود رہی۔ شمالی ملوں نے مقامی مارکیٹ میں 2.639 ملین ٹن سیمنٹ فراہم کیا، جبکہ جنوبی ملوں کی مقامی فروخت 18.40 فیصد کمی کے ساتھ 4 لاکھ 57 ہزار 583 ٹن ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق شمالی ملوں سے برآمدات صفر رہیں، تاہم جنوبی ملوں کی برآمدات 9.91 فیصد اضافے کے ساتھ 6 لاکھ 48 ہزار 564 ٹن رہیں۔
رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیل 9.80 فیصد اضافے سے 38.54 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برس اسی مدت میں 35.1 ملین ٹن تھی۔ اس عرصے میں مقامی فروخت 10.61 فیصد اضافے کے ساتھ 31.6 ملین ٹن رہی، جبکہ برآمدات 6.25 فیصد اضافے سے 6.94 ملین ٹن ریکارڈ کی گئیں۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیمنٹ کی صنعت توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، لہذا تیل اور کوئلے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں تعطل کے باعث لاگت میں اضافہ صنعت کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
