-Advertisement-

ایران پر امریکی حملوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ

تازہ ترین

انڈونیشیا میں 7.6 شدت کا زلزلہ، ایک ہلاکت، سونامی کا خطرہ ٹل گیا

انڈونیشیا کے شمالی ملوکا سمندر میں جمعرات کے روز 7.6 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی جس کے...
-Advertisement-

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں چار ڈالر فی بیرل سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ تیزی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے توانائی اور تیل کے مراکز کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا تاہم انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی ٹائم لائن کا تعین نہیں کیا۔

برینٹ کروڈ آئل کے سودے چار اعشاریہ اٹھاسی ڈالر یعنی چار اعشاریہ آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ ایک سو چھ اعشاریہ صفر چار ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اسی طرح یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے چار اعشاریہ ایک سات ڈالر یا چار اعشاریہ دو فیصد اضافے کے بعد ایک سو چار اعشاریہ دو نو ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔

قیمتوں میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جمعرات کے روز ٹرمپ کے خطاب سے قبل دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ قوم سے اپنے ٹیلی وژن خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف کے حصول کے قریب ہے اور تنازع جلد ختم ہو جائے گا تاہم انہوں نے کسی مخصوص وقت کا ذکر نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کام کو جلد مکمل کرنے جا رہے ہیں اور ہم کامیابی کے بہت قریب ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری راستوں پر ٹریفک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ قطری وزارت دفاع کے مطابق بدھ کے روز قطری حدود میں قطر انرجی کے زیر استعمال ایک آئل ٹینکر کو ایرانی کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی سپلائی میں تعطل کے اثرات اپریل میں یورپی معیشت پر نمایاں ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس سے قبل یورپی براعظم جنگ شروع ہونے سے قبل کیے گئے معاہدوں کے تحت تیل کی ترسیل کے باعث محفوظ رہا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -