-Advertisement-

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے اسرائیلی قانون کی شدید مذمت

تازہ ترین

پوپ لیو کا ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد کے طور پر ظہور

ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے اور انہوں نے عالمی منظر نامے پر صدر...
-Advertisement-

پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے قانون کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت کا حصہ ہے۔

مذکورہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ قانون مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جو کہ ایک خطرناک پیش رفت ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے پیر کو منظور کیے گئے اس قانون کے تحت فوجی عدالتوں میں قصوروار ٹھہرائے جانے والے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قانون میں یہ شق بھی شامل ہے کہ عدالتی فیصلہ نوے روز کے اندر سنایا جائے گا اور مجرم کو معافی کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ سزائے موت کے لیے استغاثہ کی درخواست ضروری نہیں ہوگی اور فیصلہ سادہ اکثریت سے کیا جا سکے گا۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات نسل پرستانہ نظام کو مضبوط کرنے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قانون علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔

مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی حالت زار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے قیدیوں پر تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی کی رپورٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری منظم خلاف ورزیوں کا تسلسل ہے۔

ممالک نے اسرائیل کی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا تعین کرے اور خطے میں مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -