فلپائن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے فلپائنی پرچم بردار بحری جہازوں، ایندھن اور فلپائنی ملاحوں کی محفوظ اور بلاتعطل نقل و حمل کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ پیش رفت فلپائن کی سیکریٹری خارجہ تھریسا لازارو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کی فراہمی کے تحفظ اور ملاحوں کی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
فلپائنی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے فلپائنی جہازوں اور عملے کا گزر محفوظ اور تیز رفتار ہوگا۔
سیکریٹری خارجہ تھریسا لازارو نے اس گفتگو کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی ضروریات اور ملاحوں کے تحفظ کے لیے مثبت مفاہمت طے پا گئی ہے۔
فلپائن اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے اور خام تیل کی بڑی مقدار اسی خطے سے درآمد کی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ملنے والی یہ یقین دہانیاں ملک میں تیل اور کھاد کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے میں اہم ثابت ہوں گی۔
سعودی عرب فلپائن کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت ملنا فلپائن کے لیے توانائی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
