-Advertisement-

پیوٹن اور محمد بن سلمان کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہارِ تشویش، تیل کی منڈی میں استحکام پر زور

تازہ ترین

خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ سے طاقت کے استعمال کا مطالبہ

خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ...
-Advertisement-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والے تنازع کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے شہری جانی نقصانات اور اہم بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش جتائی ہے۔

روسی صدر اور سعودی ولی عہد نے خطے میں جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خبردار کیا کہ توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں تعطل براہ راست عالمی منڈیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

اس موقع پر پیوٹن اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے اور عالمی منڈی میں توازن برقرار رہے۔

یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دو ہزار بائیس سے روسی حملوں کا سامنا کرنے والا ملک یوکرین، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو بڑھانے کے عمل میں ہے۔ کیف کی جانب سے خلیجی ممالک کو ڈرون مار گرانے میں اپنی مہارت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے، جس کے تحت ایران سے لاحق خطرات کے پیش نظر سستے ڈرون دفاعی نظام کے بدلے جدید فضائی دفاعی میزائلوں کے تبادلے کی تجویز دی گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -