ایران کے شمالی علاقے میں جمعرات کے روز ایک اہم شاہراہ پر واقع پل کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق حملہ کرج شہر کے قریب عظیمیہ کے علاقے میں کیا گیا جہاں مشرق وسطیٰ کے بلند ترین پل بی ون کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اس حملے کے نتیجے میں زیر تعمیر پل کو شدید نقصان پہنچا ہے جو ایک بڑے روڈ انفراسٹرکچر منصوبے کا حصہ تھا اور اسے جلد ہی کھولا جانے والا تھا۔ حملے کے بعد علاقے میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے اور متعلقہ حکام بجلی کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ وہ دیر ہونے سے پہلے کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ اٹھائیس فروری سے جاری ہے۔ اب تک جاری ان کارروائیوں میں انیس سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
تہران کی جانب سے بھی ان حملوں کے جواب میں اسرائیل سمیت اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان جوابی کارروائیوں سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں اور ہوابازی کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
