-Advertisement-

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر مقرر

تازہ ترین

پاکستان کا افغان پالیسی میں تبدیلی کے تاثر کو مسترد، انسدادِ دہشت گردی آپریشن جاری

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ چین اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی میکانزم کے تحت جاری مذاکرات کا...
-Advertisement-

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی توانائی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی گزشتہ چار ہفتوں سے قیمتوں کا جائزہ لے رہی تھی جس کے بعد ہی اس اضافے کی منظوری دی گئی۔

کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کو تین ماہ تک 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ روزانہ سفر کرنے والوں پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت مشکل مگر ذمہ دارانہ فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل اور ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں جس کے باعث ملکی سطح پر قیمتوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت اب تک 129 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے تاہم اب عمومی ریلیف کے بجائے صرف مستحق طبقات کو ہدف بنا کر مدد فراہم کی جائے گی۔ حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی سمیت کفایت شعاری کے دیگر اقدامات بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔ وزیر پیٹرولیم نے زور دیا کہ تمام فیصلے ملکی مفاد میں کیے جا رہے ہیں اور اس نازک وقت میں قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -