-Advertisement-

پاکستان کا افغان پالیسی میں تبدیلی کے تاثر کو مسترد، انسدادِ دہشت گردی آپریشن جاری

تازہ ترین

محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وسیع...
-Advertisement-

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ چین اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی میکانزم کے تحت جاری مذاکرات کا مطلب انسداد دہشت گردی کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران زور دیا کہ آپریشن غضب الحق بلا تعطل جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ارمچی میں جاری مذاکرات میں پاکستان کی شرکت کو پالیسی میں تبدیلی نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ خطے میں امن کا انحصار افغانستان کی جانب سے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات پر ہے۔ کابل کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مذاکرات سے کبھی نہیں بھاگا اور چین کے ساتھ اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ارمچی میں جاری بات چیت ورکنگ لیول پر ہو رہی ہے جس میں اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے مذاکرات میں دلچسپی کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ کابل کے بیانات کا نوٹس لیا گیا ہے، تاہم ماضی میں دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محض بیانات کافی نہیں، بلکہ تحریری اور قابل تصدیق ضمانتیں درکار ہیں۔

پاکستان کے پانچ نکاتی امن اقدام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کوشش کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے درمیان مشاورت کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے اور اسے کسی رسمی اتحاد کا نام دینا قبل از وقت ہوگا۔

ترجمان نے ایران پر دباؤ ڈالنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ مثبت تعلقات کا خواہاں ہے اور مذاکرات کی وکالت کو دباؤ نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے ان رپورٹس کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث ایرانی وفد پاکستان آنے سے ہچکچا رہا ہے۔

طاہر اندرابی نے اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی چیلنجز کے باوجود سفارتی عمل اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ وفد کی واپسی کے بعد مذاکرات کی مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -