-Advertisement-

کیوبا: امریکی پابندیوں کے خلاف سائیکلوں اور الیکٹرک ٹرائی سائیکلوں پر احتجاجی ریلی

تازہ ترین

پنجاب حکومت کا صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان

حکومت پنجاب نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی معاشی بحران کے پیش نظر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے...
-Advertisement-

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل کی قیادت میں دارالحکومت ہوانا میں حکومتی سطح پر ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے بائیکس اور الیکٹرک ٹرائی سائیکلز پر سوار ہو کر ساحلی شاہراہ مالیکون پر مارچ کیا۔ اس مظاہرے کا مقصد امریکی پابندیوں کے خلاف اپنے عزم کا اظہار کرنا تھا۔

کارواں کے شرکاء نے ہوانا میں واقع امریکی سفارت خانے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اپنے جھنڈوں اور بینرز پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ معاشی پابندیوں کے خلاف نعرے درج کر رکھے تھے۔ اس ریلی کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب کیوبا کو شدید ایندھن کے بحران کا سامنا ہے جس نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔

یہ ریلی واشنگٹن میں کیوبا کے اعلیٰ ترین سفارت کار کی جانب سے امریکی حکومت کو کیوبا کی کمزور معیشت کی بحالی میں مدد کی دعوت دینے کے ایک روز بعد نکالی گئی۔ مذاکرات کا یہ عمل تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

ریلی میں شریک قانون کی طالبہ شیلا اباتاؤ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی حامی ہیں لیکن اس کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کیوبا کی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان باوقار مذاکرات ممکن ہیں۔

صدر میگوئل ڈیاز کینل نے اس تقریب کے دوران کوئی خطاب نہیں کیا۔ ایندھن کی قلت کے باعث یہ ریلی گزشتہ مظاہروں کی نسبت چھوٹے پیمانے پر منعقد کی گئی تھی۔

دریں اثنا رواں ہفتے روس کا ایک آئل ٹینکر 7 لاکھ بیرل خام تیل لے کر کیوبا پہنچا ہے جس سے آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس ٹینکر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیوبا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی تھی، حالانکہ امریکہ نے کیوبا کو تیل برآمد کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -